PrintPrint Friendly
اپنی زبان میں ترجمہ کریں Translate this Page Google-Translate-English Google-Translate-Chinese (Simplified) BETA Google-Translate-URDU to French Google-Translate-URDU to German Google-Translate-URDU to Italian Google-Translate-URDU to Japanese BETA Google-Translate-URDU to Korean BETA Google-Translate-URDU to Russian BETA Google-Translate-URDU to Spanish Google-Translate-URDU to Turkish Google-Translate-URDU to Arabic Google-Translate-URDU to Hindi

ویڈیو گیم کی نفسیات

احسن کو پیسے پکڑاتے وقت ماں نے یہ تاکید کی تھی کہ سیدھے گھر ہی آنا ورنہ خیر نہ ہوگی، ہاں ہاں امی! میں ابھی فوراّ ہی آتا ہوں - نو سالہ احسن ماں کو یقین دہائی کراتا ہوا گھر سے باہر دہی لینے کے لیے روانہ ہوا جسے سالن میں ڈالا جانا تھا، آدھا گھنٹہ گزرنے پر احسن کی کوئی خبر نہ ملی تو اس کی امی نے چادر اوڑھ کر گھر سے ذرا دور بازار کا رخ کیا ، ایک دکان پر پردے ڈلے ہوئے تھے جن کے ہلنے سے اندر موجود ٹی وی اسکرین کی روشنیاں باہر گزرنے والے بچوں کو اند کھینچنے کے لیے کافی تھیں احسن کی امی کا اندازہ درست نکلا احسن بھی ہاتھ میں دہی کی تھیلی پکڑے دوسرے بچوں کے ہمراہ انتہائی انہماک سے ویڈیو گیم پر رواں منظر دیکھ رہا تھا- یہ صرف احسن کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر چوتھے پانچویں گھر میں ہر ایک نو عمر بچہ ایسا ضرور ملے گا جس کا پسندیدہ مشغلہ ویڈیو گیمز کھیلنا نہیں تو دیکھنا ضرور ہوگا جس کے باعث نا صرف گھر کے کاموں کے دوران بلکہ اسکول آتے جاتے بھی بچے اپنا وقت اسی گیمز زون شاپ میں ضائع کرتے ہیں،اس مسئلہ کے حل میں والدین یہ نکالتے ہیں کہ بچہ کے شوق اور دلچسپی کے لیے گھر پر ہی گیم کنسول یا پھر کمپیوٹر لا کر اس کے حوالہ کردیتے ہیں تاکہ بچہ باہر کے ماحول سے متاثر نہ ہو او ر والدین کی نظروں میں رہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس ویڈیو گیمز سے ان کا بچہ کیا کیا مضر اثرات اپنے شعور میں جذب کر رہا ہے جسے زائل کرنا آسان نہیں

انسان ابتداء ہی سے فرصت کے اوقات میں تفریحی سرگرمیوں کا شوقین رہا ہے پہلے زمانے میں تیر اندازی، گھڑ دوڑ، کسرت، شہہ زوری جیسے جسمانی صحت کے کھیلوں کے ساتھ ساتھ شطرنج، ڈرافٹ، لوڈو، بیت بازی، پہیلیاں بوجھنا جیسے ذہانت اور حاضر دماغی والے کھیل بھی کھیلے جاتے تھے، آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں جہاں انسانی سہولت کے لیے بے شمار ایجادات وجود میں آئی ہیں وہیں کھیلوں نے بھی جدید روپ اختیار کرلیا اور کمپیوٹر کی مفید ایجاد نے ان کھیلوں کو ڈیجٹلائزڈ کرکے گھر گھر پہنچادیا ہے،


آج لاکھوں کی تعداد میں ویڈیو گیمز ٹی وی اور کنسول سے کمپیوٹر تک ہر سہولت کے مطابق بازار میں بآسانی دستیاب ہیں جنہیوں نے مقبولیت کے ساتھ متنازع حیثیت بھی اختیار کرلی ہے اور یہ بحث بھی جاری ہے کہ کمپیوٹر گیمز کا استعمال تفریح و معلومات اور ذہنی تربیت کرتا ہے یا بچوں میں طبی، نفسیاتی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل پھیلارہا ہے


ویڈیو گیم
کی نفسیات



صفحہ 1


اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں نت نئی ایجادات کا استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے اور کمپیوٹر گیمز بھی ذہنی تربیت میں معاون ہے مگر اس کا نافہمانہ استعمال بچوں میں انتہائی مہلک اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے، اس بات کا اظہار مغربی مفکرین اور نفسیات دان کررہے ہیں، ان کے مطابق جدید دور میں بنائے جانے والے گیمز بچوں اور نوجوانوں میں جارحیت پیدا کررہے ہیں، بعض ویڈیو گیمز کمپنیاں اپنے گیمز کو حقیقت سے قریب تر دکھانے اور اس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے عنصر شامل کررہے ہیں جن میں ماردھاڑ تشدد اور خون خرابہ ، جزوی یا مکمل عریانیت ، جنسی تشدد، گیم کے کردار کا مجرمانہ طرز عمل یا دیگر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد رکھنے والے ویڈیو گیمز بچوں اور نوجوانوں میں نشہ اور جارحیت جیسے مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں.، نفسیات کی اصطلاح میں جارحیت سے مراد ایسا رویہ ہے جو کسی بھی شے کو نقصان پہنچائے اور ایسا ارادہ جو کہ بدنیتی پر مبنی ہو،جارحیت کی تین قسمیں ہیں زبانی ، جسمانی، اور تعلقاتی، زبانی جارحیت سے مراد گیم میں کسی کردار کے ذریعہ گالی گلوچ یا فحش الفاظ کا استعمال بھی بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتا ہے، تشدد چوٹ اور مارپیٹ سے مراد جسمانی جارحیت کے ہے جو سنگین اور نقصان دہ ہونے کا امکان ہوتی ہے. کیونکہ ایسے مناظر کی دیکھا دیکھی بچے اور نوجوان اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور تعلقاتی جارحیت میں عریانیت، جنسی تشدد اور غیر اخلاقی افعال، نفسیاتی ہیجان کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گیم کھیلنے والے لوگوں میں 25 فیصد گیمرز 18 سال سے کم عمر کے بچے ہیں اور 32 فیصد وہ ہیں جو مکمل طور پر بالغ شعور رکھتے اور باقی بچنے والوں میں جن کا اوسط تناسب 35 فیصد ہے ایسے نوجوان ہیں جو ابھی بچپن اور بلوغت کی سرحد پر کھڑے ہیں


یہی وہ دور ہے جب شعور و ذہنی سطح کے ساتھ رویوں کی گروتھ بھی ہورہی ہوتی ہے





صفحہ 2


ویڈیو گیم پر سب سے زیادہ تنقید یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نوجوانوں میں حد سے زیادہ تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے، اس تنقید پر کئی اہم اداروں مثلاً ہارورڈ میڈیکل سینٹر فار مینٹل ہیلتھ ، جرنل آف ایڈولسینٹ ہیلتھ اور برٹش میڈیکل جرنل نے بھی ویڈیو گیمز کے استعمال سے پیدا ہونے والی پر تشدد سرگرمیوں کے درمیان لنک ظاہر کیا ہے. ان کے مطابق حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ زیادہ تر گیمز میں دکھائے جانے والے تشدد کو بچے اور نوجوان اسکول یا گھر سے باہر اسی طرح نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے رویوں میں ماردھاڑ کے شامل ہونے حتی کہ گالی گلوچ اور سگریٹ نوشی تک کی لت وہ گیمز سے سیکھتے ہیں، ان اسٹڈیز سے پتہ چلتا ہے کہ جارحیت اور تشدد پر مبنی ویڈیو گیمز پرتشدد رویے اور مجرمانہ سوچ اور محسوسات، اسکولوں اور کھیل کے میدانوں میں لڑائی جھگڑا، بڑھتے ہوئے جسمانی طاقت کے استعمال کا رجحان اور بہتر سماجی رویوں کی کمی میں گہرا تعلق ہے، پرتشدد گیمز ٹی وی اور فلموں میں دکھائے جانے والے پرتشدد مناظرات سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیوں کے اس میں ہونے والی پرتشدد کاروائیوں میں بچہ خود بھی انوالو ہوتاہے ان گیمز میں جنسی بداخلاقی کے پہلو بھی کسی حد تک نمایاں رکھے جاتے ہیں جبکہ بعض گیمز سے بچہ معصوم راہ گیروں، پولیس کو بے دردی سے مارنا سیکھتے ہیں اور اس کے لئے مختلف ہتھیاروں چاقو یا خنجر، بندوقوں اور آتشی اسلحہ، تلواروں اور بیس بال بیٹ کا استعمال کرتے ہیں گیم کھیلنے والا خود کو مجرم کی جگہ تصور کرتے ہوئے کھیلتا ہے

صفحہ 3

ڈیوڈ گراسمین ایک سائیکلوجی پروفیسر ہیں انہوں نے گیمز میڈیا اور تشدد اور جارحیت
کے موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں انہوں نے ایسے مرنے مارنے کی ترغیب دینے والے گیمز
کے لیے قتل کا محرّک کی اصطلاح بیان کی ہے ایسے گیمز بچوں کو ہتھیاروں کا استعمال سکھاتے ہیں
اور اس سے بھی زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بچہ ایک ہی گیم سے سینکڑوں ہزاروں کرداروں کو
مار نے کی تحریک کے باعث سخت جارحیت کے حامل ہوجاتے ہیں

کولمبئین ہائی اسکول کے دو طالب علم 18 سالہ ایرک ہیرس اور 17 سالہ لوڈ نے 20 اپریل 1999 کو 12 طالب علموں اور ایک اساتذہ کو قتل کردیا، یہ دونوں طالب علم ڈوم نامی گیم کی لت میں مبتلا تھے اور انہوں نے یہ گھناؤنا فعل ڈوم گیم کی طرح کیا @، اپریل 2000ء میں 16 سالہ اسپینش لڑکے جوز ربدان پارڈو نے اپنے ماں باپ اور بہن کو کاٹانا تلوار سے قتل کردیا بالکل اسی طرح جس طری گیم فائنل فینٹسی 8 کے مشن میں لیون ہارٹ نامی ہیرو کرتا ہے @، نومبر 2001ء میں 21 سالہ امریکی شان وولی نے خودکشی کی اس کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک گیم ایور کوئسٹ کو نشہ کی حد تک کھیلتا تھا@، جو اس میں گیم کے لیول کے ساتھ بڑھتا گیا لیکن جب اس نے گیم ختم کرلیا اور اس کو وہ نشہ حاصل نہ ہوا جس کی اسے عادت ہوگئی تھی تو ، اس نے خودکشی کرلی
فروری 2003ء میں 16 سالہ امریکی لڑکے ڈسٹن لنچ نےگرینڈ آٹو تھیف سے متاثر ہوکر ایک بچی کو قتل کردیا اسی طرح سات جون 2003ء @ 18 سالہ ڈیون مو ر نے جی ٹی اے وائس سٹی سے متاثر ہوکر دو پولیس والوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور ایک چوری کی ہوئی کار سمیت گرفتا کرلیا گیا
دو امریکی سوتیلے بھائیوں جوشوا اور ولیم بکنر جن کی عمر 14 اور 16 سال تھی نے 25 جون 2003ء کو ایک رائفل کے ذریعہ 45 سالہ بوڑھی شخص کو ہلاک کردیا اور 16 سالہ لڑکی زخمی ہوئی @ یہ بچہ بھی جی ٹی گیم کی نقل کررہے تھے اسی طرح لیسسٹر برطانیہ میں 27 فروری 2007ء کو 17 سالہ فارن لیبنانک 14 سالہ اسٹیفن فکیرا کو پارک میں لے جاکر ہتھوڑے، چھریوں کے پے ردپا دار سے ہلاک کردیا تحقیقات سے پتہ چلاکہ وہ مین ہنٹ گیم سے متاثر تھے@، مقتول کی والدہ اب برطانیہ میں پرتشدد گیم کے خلاف مہم میں سرگرم عمل ہیں اکتوبر2004ء میں 41 سالہ چینی شخص قوئی چینگ وی نے 26 سالہ زوو کائیوان کو ہلاک کردیا @ دونوں کے درمیان ایک گیم لیجنڈ آف میر 3 کے مشترکہ طور پر جیتنے پر ہتھیاروں کے متعلق ہونے والی بحث جھگڑے کی صورت اختیار کرگئی

ستائیں دسمبر 2004ء کو 13 سالہ ژاؤ یی نے 24 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی@، موت سے قبل وہ 36 گھنٹے مسلسل وارکرافٹ3 گیم کھیل رہا تھا@ اگست 2005ء @ کو 280سالہ جنوبی کویائی شخص لی سیونگ سیوپ پچاس گھنٹے سے مسلسل اسٹارکرافٹ نامی گیم کھلتے ہوئے موت کا شکار ہوگیا


صفحہ 4

انیس جنوری 2006ء @ کو ٹورنٹو کی سڑکوں پر 18 سالہ دو نوجوان لڑکوں الیگژینڈر رائزانو اور
وانگ پیاؤ ڈومانی نے نیڈ فار اسپیڈ موسٹ وانٹڈ کی نقل کرتے ہوئے تیز رفتار ریس کی شرط
لگائی اور اس ریس کے دوران ہونے والے حادثہ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور طاہرخان جان بحق ہوگیا
ستمبر 2007ء میں @ گانگجو، چین کا ایک شخص انٹرنیٹ پر مسلسل تین دن سے آن لائن گیم
کھیلتا رہا اور کھیل کے اس نشہ نے اس کی جان لے لی

ستمبر 2007ء میں @ @ @ ڈینیل پیٹرک نے اپنی والدہ کو گولی مار کر قتل کردیا اور اس کے والد بھی گولی سے زخمی ہوئے اس کے والد جو کہ ویلنگٹن اوہایو کے نیو لائف اسمبلی کے منسٹر تھے کی جانب سے ڈینیل پر گیمز کھیلنے پر پابندی لگائی گئی کیونکہ وہ وہ 18 گھنٹے روزانہ اس لت میں مبتلا رہتا ہے چنانچہ اس نے ایک گیم ہالو3 کھیلنے کے لئے اپنے بیڈروم کی گھڑکی توڑ کر والد کے کمرے میں گھسا اور گیمز کے ساتھ ان کی بندوق بھی چرا لایا اور اس سے یہ مجرمانہ کاروائی انجام دی
دسمبر 2007ء میں @ ایک روسی شخص لائنیج2 گیم کی طرح حقیقی زندگی میں فائٹنگ کی شرط رکھی اور اس جھگڑے میں مارا گیا، سال 2007ء میں ورجینیا ٹیک میں قتل عام کرنے والے خونی قاتل سیونگ ہوئی چو کے متلق اخباری رپورٹ @ یہ دعوی کیا تھا کہ وہ کاؤنٹر اسٹرائیک گیم کا جنون کی حد تک دیوانہ تھا
جون 2008ء میں چار نوجوان نے جی ٹی ای 4 گیم کی تقل کرتے ہوئے نیوہائیڈ پارک نیویارک میں ایک شخص کو لوٹا اور اس کے دانت توڑ دیے پھر ایک عورت کو روک کر اس کی بی ایم ڈبلیو کار چرا کرفرار ہوگئے @ اسی گیم کی نقل کرتے ہوئے دو اگست 2008ء کو 19 سالہ تھائی نوجوان پولواٹ چینو نے بنکاک میں ٹیکسی ڈرائیور کو مارکر اس کی ٹیکسی چوری کی @ @ @، پولیس اہلکار کے مطابق نوجوان مکمل طور پر اس گیم کی کاپی کرنے کی کوشش کر رہا تھا نتیجہ کے طور پر حکام نے اس کا گیم کی تھائی لینڈ میں پابندی کا حکم دیا چودہ اپریل2009ء کو 9 سالہ ڈیموری مائل جوکہ بروکلن، نیویارک میں رہتا تھا ایک گیم ڈبیلو ڈبلیو ای اسمیک ڈاؤن ورسز را کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے ایک عارضی پیراشوٹ لے کر چھت سے کھود کر جاں بحق ہوگیا مارچ2010ء @ میں 3 سالہ بچی چیین الیکسس مک کیہان اپنے باپ کی بندوق کو گیم کا ریموٹ سمجھ کر چلانے لگی اور ایک گولی سے اس کی جان چلی گئی

مئی 2010ء میں فرانس کا ایک گیمر جولین بیروکس نے اپنے ساتھی کھلاڑی صرف اس بات پر کہ اس نے کاؤنٹراسٹرائیک گیم میں اسے شکست دی، قتل کردیا مزید دیکھیے ویکی پیڈیا ویڈیوگیم سے پیدا ہونے والا جنون، جارحیت اور مجرمانہ سرگرمیوں نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا گیم بھی قتل اور جرم کا محرّک بن سکتا ہیں


صفحہ 5


ویڈیو گیمز میں وہ پہلا متنازعہ گیم جو پرتشدد مناظر کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنا، ایگزڈی ڈویلپر کا 1976 کا گیم ڈیتھ ریس تھا جس میں گیم کھیلنے والا کھلاڑیوں کو کار کا کنٹرول سنبھالنا ہوتا ہے اور اس ریس میں اسے کار کے سامنے آنے والے کرداروں روند بھی سکتے تھے ان کے ہاتھ پاؤں توڑ سکتے ہیں یہاں تک بھی بس نہ چلے تو ان ایڑھیوں کے بل کھڑے یا سسکتے لوگوں کے اوپر سے بھی کارگزار کران کا حتی الامکان خاتمہ کرسکتے ہیں بعض مناظر میں خون کی چھینٹیں کار کی ونڈ اسکرین پر بھی پھیل جاتی ہیں 1997ء میں خون خرابہ والا ایک دوسرا گیم پوسٹل کے نام سے ریلیز ہوا جس میں ڈوڈی نامی کردار راہ میں آنے والی ہر شے کو ختم کردیتا ہے، آپ لوگوں ہر طرح کے ہتھیاروں سے مار کاٹ سکتے ہیں،اس گیم کے مناظر میں جگہ جگہ آپ کو خون میں لت پت کٹی پٹی، ٹکڑے ٹکڑے ہوئی لاشیں نظر آئیں گی، 1992ء میں مورٹل کمباٹ نامی گیم میں سر کاٹنے اور شہ رگ علیحدہ کرنے کے مناظر دکھائے گئے اسی طری وولفیسٹن تھری ڈی اور ڈوم نامی گیمز میں قلعہ تما جیل سے فرار ہونے والا قیدی، قلعہ سے باہر نکلنے کے لیے دشمنوں کو مارتا پھرتا ہے اس میں اس کا کردار دھکایا نہیں جاتا بلکہ صرف ایک بندوق چاقو یا دوسرا اسلحہ دکھایا جاتا ہے تا کہ گیم گھیلنے والا یہ محسوس کرسکے کہ بندوق اور اسلحہ وہ خود چلارہا ہے اس کے بعد زیادہ پرتشدد اور حقیقت سے قریب تر گیمز آگئے مثال کے طور پر مین ہنٹ یعنی آدمی کاشکار گیم میں آپ انسانوں کو ہر طرح کے ہتھیار اور اوزار وغیرہ سے مارنے کا مشن ملتا ہے،
ایک اور گیم جو پاکستان میں کافی مقبولیت کا حامل ہے وہ ہے کاؤنٹر اسٹرائیک جسے مختصراً سی ایس بھی کہا جاتا ہے اس گیم دو کھلاڑی ایک دوسرے کے مخالف ٹیم کی صورت میں لڑتے ہیں جن میں ایک فوجی اور دوسرا دہشت گرد ہوتا ہے ان کا مین مشن مخالف ٹیم کا خاتمہ ہے اور اس میں دہشت گرد کو مختلف ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ یہ مشن بھی دیا جاتا ہے کہ مختلف جگہوں مثلاً پل اور مکانات پر ٹائم بم وغیرہ فٹ کیا جائے تاکہ انہیں دھماکے سے اڑایا جاسکے،


صفحہ 6


گرینڈ آٹو تھیف 1998ء میں ریلیز ہوا اور اب تک اس کے کئی مزید گیمز منظرعام پر آچکے ہیں جسے عرف عام میں جی ٹی اے کہا جایا ہے اس گیم میں ہیرو کا کردار ایک قاتل غنڈہ کا ہے جو اپنے باس کو خوش کرنے کے لیے قتل کرتا ہے ہے، اپنے مشن کی تکمیل کے لئے وہ گاڑی چھین سکتا ہے، تیز رفتار کاروں سے راہ گیروں یا پیدل چلنے والوں کو کچل سکتا ہے، اس گیم کے ایک پارٹ جو جی ٹی اے وائس سٹی کے نام سے ہے میں کردار مختلف ہتھیاروں کے استعمال سے مدمقابل گینگ، پولیس اور بے گناہ شہریوں کو جان سے مار سکتا ہے تلوار کے ذریعہ ان کی گردنیں کاٹ سکتا ہے اور بم سے کسی بھی گاڑی یا انسان کے چیتھڑے اڑا سکتا ہے، اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے کلب میں نیم عریا ں رقص سے بھی محظوظ ہوسکتاہے اور یہاں تک ہیرو اپنے لوٹ مار کے پیسوں سے کال گرلز سے غیراخلاقی فعل بھی کرسکتا ہے، برازیل اور تھائی لینڈ میں اس گیم پر پابندی ہے اور پرطانیہ اور فرانس نے اس کی سخت مذمت کی ہے لیکن پاکستان سمیت چند ممالک میں یہ بچوں اور نوجوانوں کا مقبول ترین گیم ہے
جی ٹی اے وائس سٹی پر سب سے زیادہ تنقید اس وجہ سے بھی کی گئی کہ اس گیم میں نسل پرستی کو فروغ دیا گیا تھا اور وائس سٹی کے نام پر میامی شہر کو فکشن طور دکھایا گیا تھا اور اس میں ہیرو کا امریکی گینگ، دو گینگز کے خلاف برسرعمل ہوتا ہے جو کیوبا اور ہیٹی کے سیاہ فام کا ہوتا ہے اس گیم کے ایک منظر میں یہ ڈائیلاگ بھی شامل تھا کہ ان چھوٹے دماغ والے ہیٹیوں کو ماردو مگر ہیٹی امریکی اتحادیوں کے اعتراز پر گیم ڈویلپرز نے اس میں سے لفظ ہیٹی نکال دیا گیا،
حال ہی میں ریلیز ہونے والے ہارر گیمز ریزیڈنٹ ایول5 اور لیفٹ فار ڈیتھ 2 میں دشمن زومبی یعنی کسی کیمیائی اثر سے زندہ لاش بن جانے والے انسانوں کا کردار افریقہ کے سیاہ فام کو دیا گیا ہے اور گیم کے ہیرو کا مشن ان سیاہ فام لوگوں کو ختم کرنا ہےاسی طرح 50 پرسنٹ، بلٹ پروف، دیفجام فائٹ فور نیویارک نامی گیمز میں بھی سیاہ فام اور سفید فام کے نسلی فساد کو فروغ دیا گیا ہے


صفحہ 7


اب گیم کی مارکیٹنگ اور نوجوانوں میں مقبول بنانے کے لیے اس میں غیراخلاقی ، فحش مواد کو بھی اپنے گیمز میں شامل کرتے ہیں، فلوریڈا سینٹرل یونیورسٹی میں 1998ءکے ایک مطالعہ میں اس وقت کے ٹاپ گیمز لیے گئے جس میں 41 فیصد گیمز میں عورت کے کردار کو خاص اہمیت نہیں دی گئی، 28 فیصد میں عورت جو ایک جنسی شے کے طور پر پیش کیا گیا، 21 فیصد میں خواتین کے خلاف تشدد دکھایا گیا اور 30 فی صد گیمز میں خواتین کا کردار سرے سے موجود نہیں تھا. لیکن گذشتہ سالوں میں گیمز میں خواتین کے کردار میں کافی فروغ آیا ہے اور 2000ء کے برطانوی سروے کے مطابق گیم میں غیراخلاقی مواد میں بھی 34 فیصد اضافہ ہوا ہے،فارن ہائیٹ، پلے بوائے، سنگل، لولا تھری ڈی، لیسور سوٹ لیری ایسے گیمز ہیں اور بازاروں میں عام دستیاب ہیں
انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ریسرچرز کی 2006ء کی تحقیق @ مطابق جو بچہ تشدد اور جارحیت سے بھرپور گیم کھیلتے ہیں، دماغ کی اسکیننگ میں ان بچوں کے اندر جذباتی پن میں اضافہ ہوتا ہے اور سیلف کنٹرول، برداشت کے مادہ میں کمی آجاتی ہے، یونیورسٹی کے پرنسپل انویسٹی گیٹر وینس میتھیو اور ان کے ساتھیوں نے چالیس کے قریب بچوں کے دوگروپ بنائے اور ایک گروپ کو ایک عام کار ریس گیم نیڈفار اسپیڈ انڈرگراؤنڈ اور دوسرے گروپ کو جنگ و تشدد سے بھرپور گیم میڈل آف آنر کھلایا گیاکھیل کے دوران ان کی دماغی اسکیننگ کی گئی تو جنگ و تشدد کے گیم کھیلنے والے بچوں کے دماغ پر منفی اثرات دیکھے گئے کنساس یونیورسٹی کے سائیکالوجی پروفیسر جان پی مرفی نے بھی اسی طرح کے تجربات کیے تھے ان کے مطابق تشدد آمیز ٹی وی ڈراموں اور فلموں سے زیادہ گیمز اثر کرتے ہیں کیوں کے ان میں بچہ خود بھی اسے چلارہا ہوتا ہے، ان گیمز سے بچوں کے ریوں میں خرابی پیدا ہوتی ہے

ایک عام کار ریس گیم کھیلنے والوں کے برعکس جنگ و تشدد سے بھرپور گیم کھیلنے والے بچوں کے دماغ کے حصہ امیگڈالا میں غیرمعمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی، یہ حصہ جذباتیت سے تعلق رکھتا ہے

صفحہ 8


ہمارے اس مضمون کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ویڈیو گیم کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے خطرناک قراد دے کر ان کے ویڈیو گیمز کھیلنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے، بلکہ یہ بتانا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو ہر ویڈیو گیم کھیلنے نہ دیا جائے، بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی تک عمر کے ساتھ ساتھ شعور اور ذہنی سطح میں بھی فرق ہوتا ہے، ایسے بچہ اور نوجوان جو ابھی پختہ شعور تک نہیں پہنچے ہیں انہیں تشدد و جارحیت اور غیراخلاقی مواد سے بھرپور گیمز کی بجائے ان کے لیے ایسے مفید گیمز کو ترجیح دی جائے جو ان کی ذہنی تربیت میں اضافہ کرے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دے، مثال کے طور پر جاپان کے ریوٹاکاواشیما نے بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے چند کھیل وضع کیے اور ننٹنڈو ڈی ایس کمپنی نے اسے گیمز کی صورت میں ڈھالا جس کا نام ڈاکٹر کاواشیما برین ٹریننگ اور برین ایج ہے، اس گیم میں ہلکی پھلکی اور سادہ ذہنی مشقیں شامل ہیں پروفیسر کاواشیما کا دعوی ہے کہ اس گیم کا روزانہ استعمال ذہنی سرگرمیوں کو کمزور ہونے سے روکتا ہے اور آپ کے دماغ کی عمر میں اضافہ کرتا ہے، اس قسم کی سرگرمیاں دماغ میں پری فرنٹل کارٹیکس میں خون کا بہاؤ پیدا کرتی ہیں، دماغ کا یہ حصہ یادداشت، منطق اور دیگر ایسے پیچیدہ رویے ممکن بناتا ہے جو عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ کمزور پڑتے جاتے ہیں، دیکھیے ننٹنڈو کادعوی
ڈیونڈی، اسکاٹ لینڈ کے طالب علموں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا یہ گیمز کا روزانہ استعمال بچوں کے ذہن پر کتنا اثرانداز ہوسکتا ہے اور اس کے کتنے ثمرآور نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ایک پروجیکٹ میں حصہ لیا، چنانچہ اسکاٹش سٹی میں واقع 32 اسکولوں میں نو اور دس سال کی عمر کے 600 طلباء کے دو گروپ بنائے گئے ایک گروپ کو ہرصبح مضامین پڑھانے سے قبل ہر پندرہ منٹ کے لیے ڈاکٹر کاواشیما کا گیم کھیلنے کو دیا جاتا اور ایک گروپ کو کورس کے علاوہ کچھ نہیں دیا گیا، دس ہفتہ بعد جب ان کا ٹیسٹ لیا گیا تو ذہنی گیم کھیلنے والے بچوں نے عام بچوں سے بہترین اسکور حاصل کیے دیکھیے
بی بی سی کی خبر





صفحہ 9

ویڈیو گیمز کھیلنے کے فائدے
ماہرین نفسیات کہتے ہیں
ایسے مناظر جو بچوں ذہنی سطح اور شعوری سمجھ اور میّسر ماحول میں موجود نہ ہوں اور ویڈیو گیم کے ذریعہ ان تک پہنچیں تو اور ان کے ذہن میں ہیجان اور منفی طرز عمل کی صورت اختیار کرلیتا، ویڈیوگیم کو اگر بچہ اور نوجوان کی ذہنی سطح، عمر اور شعور کو مدنظر رکھ کر کھیلا جائے تو یہ ذہنی اور جسمانی کارکردگی کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں، ماہرین نفسیات نے لوگوں کے ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے کھیلے جانے والے گیم کے اہم فوائد بتاتے ہیں :

دوستی اور
ہمدردی :
شکاگو میں ماہر نفسیات ڈاکٹر کوروش ڈِینی کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز ہمارے بچوں کو دوستی اور ہمدردی سکھا تے ہیں. بہت سے گیم ایسے ہیں جو ہمارے بچوں اور دوسرے بچوں کو یکساں پسند ہیں وہ ان کے ساتھ مل کر کھیلتے ہیں اس سے متعلق بات چیت کر تے ہیں. اس طرح سے وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ان سے سیکھتے ہیں ان کے بارے میں سوچتے ہیں گیم بچوں کو ایک طرح سے جوڑے رکھتا ہے
ٹی وی سے بہتر: ویڈیو گیمز اور ٹیلی ویژن پر وقت صرف کرنے کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے والوں کی اکثریت صرف چینل آن کرکے دیکھنے بیٹھ جاتی ہے جبکہ دوسری طرف گیمرز فعال ہیں جبکہ کھیل کے دوران وہ بہت سے مسائل کو حل کرتے ، تجزیاتی سوچ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں اور گیم میں تیزی سے تبدیل ہونے کر حالات اور رد عمل کا اظہار کرتے ہیں
.


موٹاپا سے نجات: رئیل گیم کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق 2،700 لوگوں میں ٹیلی ویژن اور موویز کے برعکس ویڈیو گیمز کھیلنے کے دوران میں 59 فیصد انیکس یا ہر وقت کھانا سے ان کی توجہ ہٹی رہتی ہے اور وہ موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے، جبکہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 42 فیصد نے کہا کہ غیر متوقع طور پر گیم کھیلنے نے ان کی اسموکنگ کی لت میں کافی حد تک کمی کی ہے


صفحہ 10

بہتر معلومات: ویڈیو گیمز کھیلنا آپ کی ادراکی صحت یعنی ذہنی معلومات پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے. یہ تعجب نہیں کیوں ، کیونکہ گیم کی اکثریت کھلاڑی کو قوانین کی پیروی کرنے کی پابند بناتی ہے، آپ میں حکمت عملی اور تدبیر اور تیزی سے فیصلے کرنے کی قوت اور جیتنے کے مقاصد کو پورا کرنے کو فروغ دیتی ہے ایک مطالعہ میں ایلی نوئیس یونیورسٹی کے نفسیات کے پروفیسر آرتھر کریمر @ @ نے حال ہی میں پتہ چلایا ہے کہ رائز آف نیشن جیسے حکمت عملی والے گیمز آپ کی معلومات اور یادداشت میں اضافہ کرتے ہیں اسی طرح جون 2008 میں سونی اور یاہو کمپنی کے والدین سے کیے گئے ایک بڑے سروے کے مطابق 70 فی صد والدین کا کہنا ہے کہ جب سے ان کے بچوں نے گیم کھیلنا شروع کیا ہے ان کے بچوں میں مسئلہ کو خود حل کرنے مہارت دیکھی گئی ہے ، وہ سیکھ چکے ہیں کے کس مسئلہ کو کیسے حل کیا جائے
تعلیم کا ایک نیا راستہ : کھیل تعلیم حاصل کرنے کے لتیے بہترین راستہ ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ آپ کی صلاحیتوں کو بہتر طریقہ سے فروغ دیتے ہیں، گیم سب سے پہلے کچھ بہت ہی سست رفتار سے شروع ہوتا ہے اور پھر تیز ہوتا جاتا ہے اور جیسے جیسے آپ آگی بڑھتے جاتے ہیں اس میں مہارت حاصل کرتے جاتے ہیں .جیسے ٹیٹرس گیم شروع میں آسان ہوتا ہے لیکن آپ اس کی بنیادی چیزیں سمجھ جاتے ہیں جیسے جیسے وہ تیز ہوتا جاتا ہے آپ اس سے بور نہیں ہوتے ، جبکہ عام لیکچر بھی مشکل ہو جائے تو طلبا اس سے عاجز آجاتے ہیں اور ان کے لیے سمجھنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے. شکاگو کے ماہر نفسیات ڈاکٹر کوروش ڈِینی کہتے ہیں. کھیل سے ہٹ کر علم سیکھنے کے عمل ، مجھے لگتا ہے بے قدری ہے، جب کوئی شخص کھیلنے میں محو ہوتا ہے وہ بہتر طور پر جاننے اور سمجھنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے، یہ محسوس ہو تا ہے کہ اس سے جیسی مہارت ملتی ہے جو کبھی کبھی بچے دوسری صورت میں حاصل نہیں کر سکتے ہیں مزید دیکھیں: ڈاکٹر کوروش ڈِینی کی کتاب ویڈیو گیم پلے اینڈ ایڈکشن
شارپ امیج : روچیسٹر یونیورسٹی میں 2006 کی تحقیق @ @ کے مطابق ایکشن ویڈیو گیم کے شوقین کھلاڑی دوسروں کی نسبت چیزوں پر زیادہ درست طریقے سے توجہ دیتے ہیں، اگر انہیں ڈھیروں چیزوں میں کسی ایک کو دیکھ کر تلاش کرنے کا کہا جائے تو وہ دوسروں کی بہ نسبت فوری ھور پر ڈھونڈ کر بتادیتے ہیں



صفحہ 11

بہتر موڈ اور متحرک صلاحیتیں: وسطی کیرولینا یونیورسٹی میں تفریح اور فرصت کے اوقات کے متعلق شعبہ ڈیپارٹمنٹ آف ریکری ایشن اینڈ لیژور کی 2008ء کی تحقیق @ @ @ کے مطابق ، ویڈیو گیم روز مرہ کے اسٹریس جو ہم محسوس کرتے ہیں کم کرتا ہے ہے، اور غیر متوقع طور پر گیم کھلاڑی کے موڈ کو بہتر بنا سکتے ہیں. سائنسدانوں کے مطابق دماغ کی اسکیننگ سے پتہ چلتا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے کے دماغ میں ڈوپامائن کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، ڈوپامائن دماغ میں سکون اور مسرور کن رویوں کو ظاہر کرتی ہے ، اس کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ ٹیٹرس جیسے گیموں کے ذریعہ درد اور ذہنی مرض سے نجات میں میں مدد مل سکتی تھی. ٹیٹرس دماغی قوتوں کو مقابلہ کرنا سکھاتا ہے ، ڈاکٹر ایمیلی ہومز نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا. ہماری تجویز ہے کہ اس طرح کے گیم ان لوگوں کے لیے خاص طور پر جن کی حسی صلاحتیں کسی صدمے کے باعث کمزور پڑگئی ہیں اور حسوں کو متحرک کرنے میں یہ اہم کردار ادا کرتا ہے


شدید درد کے لیے ایک علاج : میڈیکل نیوز ٹوڈے نے اپنی سال 2007 کی رپورٹس @ @ میں کہا ہے کہ نیشن وائڈ چلڈرنز ہاسپٹل برن سینٹر نے شدید درد میں مبتلا بچوں کے لئے ویڈیو گیمز کا استعمال شروع کروایا ان کے مطابق درد کا سے سب سے بہترین قدرتی علاج شاید اس طرف سے توجہ ہٹانا ہے اور ویڈیو گیمز اس میں مدد کرتا ہے، ڈاکٹر کیتھرین بٹز نے بتایا کہ ریسرچ فکر اور درد کے درمیان ایک بہت مضبوط تعلق ظاہر کرتی ہے. کسی بھی طرح کی فکر مریضوں کو مزید پریشان کردیتی ہے اور اس طرح اس کا علاج کرنا آسان نہیں ہوتا، اس طریقہ کار سے بہت زیادہ آسانی سے بچوں کا علاج کیا جاسکتا ہے اور اس دوران انہیں اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی ہے، اس کے علاوہ میڈیا پر کیموتھراپی کے مراحل میں مریضوں کی مدد کے لئے ہسپتالوں میں ویڈیو گیمز کا استعمال کے بارے میں بھی رپورٹس ملتی ہیں


صفحہ 12

امیجینیشن بہتر بنائیں: کیا آپ کو ایک فوجی بن کرمیدان جنگ میں اترنا چاہتے ہیں؟ یا ایک جیٹ جہاز پرواز کرتے ہوئے یا خون آشام بلاؤں کو ختم کرکے دنیا کو بچائیں گے؟ جن حالات کو آپ نے کبھی دیکھا نہیں سنا نہیں ویڈیو گیم کے ذریعہ آپ امیجین کرسکتے ہیں اور یہ امیجیناشن خیالی پلاؤ پکانے سے بہتر ہے ، سمز گیم کے خالق ول رائٹ کے مطابق گیمرز ایک بالکل نئے طریقے سے سیکھ رہے ہوتے ہیں ، وہ دنیا کو کی تخلیق کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں نہ کہ خاتمہ کے، یہ سچ ہے ویڈیو گیمز کا اثر ہماری ثقافت پر بھی پڑے گا
ہاتھ اور نظروں کی کارکردگی: بیت اسرائیل میڈیکل سینٹر ، نیویارک میں 303 لیپروسکوپی سرجنوں جن میں 82 فیصد مرد اور 18 فیصد خواتین شامل تھیں پر کیے گئے ایک ٹیسٹ @ @ سے پتہ چلا ہے کہ جو سرجن ایسے ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں جن میں بصری صلاحیتوں اور ہاتھ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ دوسروں سے تیز اور بہتر سرجری کرتے ہیں
اگر والدین کو چاہتے ہیں کہ ویڈیوگیم ان کے بچوں کی صلاحیت بڑھانے کے کام آئے تو انہیں ان کی ذہنی سطح کے مطابق گیم کھلائیں اور گیم کھیلنے کے اوقات کو محدود اور مقرر کریں اور پرتشدد اور غیر اخلاقی گیمز پر پابندی لگادیں، اس طرح والدین بچوں اور نوجوانوں پر گیم کے مضر اثرات کو ختم یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، آپ دیکھیں گے کہ اس سے بچوں میں بدتمیزی، بے ادبی، بد زبانی، سردمہری، معاشرے سے بےزاری اور لاتعلقی، چڑچڑاپن، الھڑ اور ضدی پن، عدم برداشت، تنک مزاجی، غیض و غضب، ہیجان، جھنجھلاہٹ، اشتعال انگیزی، جھگڑالوپن، اور خودسری میں کافی حد تک کمی آجائے گی


صفحہ 13


اب والدین اپنے بچوں کے لیے اچھے اور برے گیمز سے کیسے آگاہ ہوں اس کے لیے 1993ء میں امریکہ میں ان پرشدد ویڈیو گیمز کے خلاف کانگریس میں آواز اٹھائی گئی جس میں انتہائی کامیابی سے دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو گیم انڈسٹری ایک ایسا نظام وضع کرے جس سے گیم میں استعمال ہونے والے تشدد یا غیراخلاقی مواد کے بارے میں والدین کو آگاہ کیا جاسکے، چنانچہ 1994ء میں ای ایس آر بی یعنی انٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ @ کے نام سے ادارہ قائم ہوا جس نے دنیا بھر کے گیمز کو مندرجہ ذیل مخصوص درجہ بندی میں تقسیم کیا
تین سال کی عمر کے بچوں کے ابتدائی گیم، جن میں تعلیمی نوعیت اور مشہور کرداروں مکی ماؤس، ٹیڈی بئیر اور باربی وغیرہ کے گیمزشامل ہیں
چھ سال سے لے کر ہر ایک کے لیے موزوں گیم، جن میں عام گیمز مثلاّ ماریو، پیک مین، لیگو اور زیلڈا شامل ہیں
دس سال سے بڑے سے ہر ایک کے لیے موزوں گیم، جن میں الہ دین، ننجا ٹرٹلز، جنگل بک، ٹارزن وغیرہ شامل ہیں
سترہ سال سے کم عمر ٹین ایجرز کے لیے گیم، جن میں کار ریس، ریسلنگ، سمولیٹر اور ایکشن گیمز شامل ہیں جیسے ٹومب رایڈر، نیڈ فار اسپیڈ، سم سٹی، امپاسبل کری ایچر
سترہ سال سے بڑے میچور کے لیے گیم، جن میں جنگی، شوٹنگ، فائٹنگ، ہارر گیمز شامل ہیں جیسے کال آف ڈیوٹی، ڈوم، ہٹ مین، ریزیڈنٹ ایول اور ہالو وغیرہ
صرف بالغ شعور رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ، ایسے ویڈیو گیمز جن میں فحش یاغیراخلاقی مواد جزوی یا مکمل طور پر شامل ہو، جیسے گرینڈ تھیف آٹو، فارن ہائیٹ اورلولا وغیرہ
ریٹنگ زیرغور ہیں، یہ درجہ بندی عموماّ ان گیمز پر کی جاتی ہے جن کا ابھی ڈیمو ورژن ریلیز ہوا ہو یا پھر پرموشنل ٹریلر دیا جارہا ہو
کڈز ٹو ایڈلٹ یعنی بچوں سے بالغ تک ہر ایک کی ذہنی سطح کے لیے بنائے گئےگیم جن میں ذہنی و دماغی مشق کے آسان گیمز ہوتے ہیں جیسے برین ایج، میتھ ٹریننگ، سائٹ ٹریننگ وغیرہ

ہرگیمز کے باکس اور سی ڈی کے سرورق پر اس درجہ بندی کا لیبل لگا ہوتا ہے تاکہ آپ گیم کی نوعیت سے آگاہ ہو سکیں کہ یہ گیم کتنی عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے


صفحہ 13

 
Generation Next جنریشن نیکسٹ. میں مزید نکھار کے لیے ہمارے فیس بک پیج پررابطہ کریں. یا پھر ہمیں ای میل کریں، منجانب محمد ذیشان خان .